اسلام دنیا کو دہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے آیاہے:سید محمد اشرف کچھوچھوی

Posted in National

نئی دہلی، 10 فروری.

(پی ایس آئی)

سچ چھپانا اور ترقی کے راستوں کو بند کرنا، عدل نہ کرنا ، ظلم کو بڑھاوا دینا سب سے بڑا آتنک واد ہے ۔اسلام آیا ہی اسلئے ہے تاکہ دم توڑتی انسانیت کو پھر سے زندگی مل سکے۔

 

ہمارے صوفیوں نے ہمیں اسلام کا یہی مطلب بتایا ، اپنی پوری زندگی انسان اور انسانیت کی خدمت کی اور ہمیں بھی اسی بات کی تلقین کی ، ظلم کے بدلے ظلم اسلام میں نہیں ہے ۔اپنی نفس سے لڑنا سب سے بڑا جہاد ہے ،بے گناہوں کو بارود کے ڈھیر پر بٹھانا نہ تو جہاد ہے اور نہ ہے ترقی پسندی۔ ان خیالات کا اظہار گذشتہ شب حضرت نظام الدین اولیا کے عرس پاک کے موقعہ پر عرس محل میں واقع ایک اجلاس میں کو خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صدر و بانی اشرف ملت حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کیا ۔

 آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صدر و بانی اشرف ملت حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ اسلام کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام ایسے آتنک کے ماحول میں آیا کہ ایک بیٹی بھی اپنے باپ سے محفوظ نہ تھی لیکن پیغمبر اسلام نے اس ماحول کو اخوت و محبت کا دور بنا دیا ۔ کیوں کی جب برائی مذہب کے دامن میں آ جاتی ہے تو وہ اچھائی میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔اس ظلم و بربریت کے دور میں سراداران مکہ نے اہل ایمان پر اس لئے مظالم ڈھائے کیوں کہ اس عدل انصاف کے نظام سے ان کی سراداری اور تجارت پر فرق پڑ رہا تھا ۔ اہل ایمان ان کے ظلم کے خلاف صبر کرتے رہے اور پیغام دیتے رہے کہ ظلم کے خلاف دفاع کیلئے آواز بلند کرنا درست ہے لیکن ظلم کے خلاف ظلم کی اسلام میں اجازت نہیں۔جب ان ظالموں کا بس نہ چلا تو منافقت شروع کردی ۔ظاہری ایمان لاکر اسلام ہی کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا پھر ایک دن ایسا بھی آیا جب انہیں مسجد نبوی سے نام لیکر نکالاگیا۔

بورڈ کے صدر و بانی نے کہا کہ آ ج کے موجودہ دور میں بھی وہی فکر پائی جاتی ہے ۔پیسہ اور پاور کی خوہش نے انسان کو درندہ بنا دیا ہے ۔ اس ہوس میں وہ کسی بھی مذہب اور قوم کا لباس پہن کر نفرت کی سیاست کرنے کو تیا رہیں۔جہاد کے نام پر آ ج پیسہ اور پاور کی خواہش رکھنے والے چند نام نہاد افراد اور تنظیمیں اسلام کے خلاف پروپیگینڈہ کر رہی ہیں۔معصوب بچوں کے قتل سے لیکر عبادت گاہوں کے منہدم کرنے اور اس پر اسلام کے کیلئے جہاد کا لیول لگانے تک کا گھناونا کام انجام دیا جا رہا ہے جس کا اسلام سے دور دور کا رشتہ نہیں ہے ۔اسلام نے دور جہالت کے سفاکیت کے ماحول میں بھی اس کی اجازت نہیں دی ۔ فتح مکہ میں جو کارنامہ پیغمبر اسلام نے انجام دیا ہے اس کی مثال دنیا کی کسی بھی تاریخ میں نہیں ملتی۔

سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ آج دنیا اسی پیسے اور پاور کی وجہ سے ایک دوسرے کی دشمن بنی ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں آئے دن نئے نئے آلات حرب ضرب وجود میں آتے ہیں پھر ایک انسان دوسرے انسان کا خون اپنا حق سمجھ کر بہاتا ہے ۔نہ جانے کتنے ملک تباہ کر دئے گئے اور ابھی بھی ہو رہے رہیں۔یہ دنیا کا سب سے بڑا آتنک واد ہے ۔اس پیسہ اور پاور کے خلاف اگر کوئی نظام اور فکر کھڑی ہوئی ہے تو وہ ہے مذہب اسلام ۔ پیغمبر اسلام ، صحابہ کرام سے لیکر تمام اسلاف اور صوفیائے کرام نے اپنی زندگی کو نمونہ بنا کر پیش کیا اور بتایا کہ پیسہ اور پاور سب کچھ نہیں ہے اگر زندگی میں سکون چاہتے ہو تو انسان اور انسانیت کی خدمت کرو۔

مولانا سید محمد اشرف کچوچھوی نے مزید کہا کہ اسلامی تعلیمات ہی ہمارے معاشرے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ترقی کا راستہ ہے۔ہمیں آج غور یہ کرنا ہے کہ ہم نے کن راستوں کو چھوڑ دیا جس سے ہم پسماندگی کا شکار ہو گئے ۔ہم شکوک شبہات میں ایسا گھر گئے کہ ترقی کے سارے راستے ہم نے خود اپنے آپ پر بند کر لئے ۔قرآ ن میں ہر مسئلہ کا تذکرہ موجود ہے صحابہ کی روایت اور قرآن کے اعجاز کی تاریخ بتا تی ہے کہ اس نے ہر مشکل کو حل کیا ہے۔ آج سائنس نے کہا کہ اس نے ایک گاڈ پارٹکل(انرجی) کو تلاش کرلیا ہے جس(بلاسٹ) سے ساری کائنات کی تخلیق ہوئی ہے ۔پیغمبر اسلام نے اس کا خلاصہ پہلے ہی کر دیا تھا کہ اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو تخلیق کیا پھر اس نور سے ساری کائنات کو تدریجا تخلیق کیا۔ہمیں ایسی فکر سے آزادی حاصل کرنی ہوگی اور اس فکر کو فروغ دینے والے افراد ، اداروں اور تنظیموں سے بھی تاکہ ہم اور ہمارا ملک اس انتہا پسندی اور تشدد سے محفوظ رہے اور ایک بار پھر سے وہی گنگا جمنی تہذیب کا دور ہو جس کے لئے ہمارا یہ ملک جانا جاتاہے ۔

Блогът Click here очаквайте скоро..

Full premium Here download theme for CMS

Bookmaker Bet365.gr The best odds.