یروڈا جیل میں حمایت بیگ کی جان کو خطرہ، جیل ٹرانسفر کی درخواست

Posted in National

ممبئی، 10 فروری.

(پی ایس آئی)

 جرمن بیکری بم دھماکہ معاملے میں پھانسی اور عمر قید کی سزا پانے والے مرزا حمایت بیگ کی جان کو پونے کی یروڈا جیل میں خطرہ لاحق ہے اور اس کی جیل کو فوری طور تبدیل کیا جائے۔ ممبئی کی ہائی کورٹ میں آج یہ درخواست دفاع کی جانب سے داخل کی گئی ہے جس کی سماعت عدالت نے ۲۳فروری کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

واضح رہے کہ حمایت بیگ کو مقدمات کی سماعت کے لئے یروڈا جیل سے ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں منتقل کیا گیا تھا، مگر جب ابتدائی سماعتوں کے بعد اس کے معاملے کو التواء میں ڈال دیاگیا تو جیل حکام نے اسے دوبارہ ہوم جیل روانہ کردیا۔

حمایت بیگ کے مقدمے کی پیروی کرنے والی جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جانب سے سپریم کورٹ کے مشہور وکیل ایڈووکیٹ محمود پراچہ اور سینئر کریمنل وکیل ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان اس معاملے کی پیروی کررہے ہیں اور انہوں نے عدالت کے روبرو حمایت بیگ کو دوبارہ آرتھر روڈ جیل میں لانے کی درخواست کی ہے۔ درخواست میں یروڈہ جیل میں حمایت بیگ کی زندگی کو خطرہ لاحق ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چونکہ اسی جیل میں جرمن بیکری کے اہم ملزم قتیل صدیقی کا قتل ہوچکا ہے اور بہت ممکن ہے کہ جن لوگوں نے قتیل صدیقی کا قتل کیا تھا، وہ حمایت بیگ کو بھی قتل کردیں تاکہ جرمن بیکری کا سچ سامنے نہ آسکے۔

اطلاع کے مطابق ہائی کورٹ نے اس درخواست کو سماعت کے لئے منظور کرلیا ہے اور اس کے لئے ۲۳فروری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ دفاع کے مطابق ہم نے حمایت بیگ کو خصوصی عدالت کے ذریعے دی گئی سزاؤں کو ہائی کورٹ میں چیلج کیا ہے ، جو ابتدائی سماعتوں کے بعدسے ہی ایک طرح سے التواء کاشکار ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ ججوں کی تبدیلی سے لے کر کسی اور جج کی جانب سے اس کی سماعت سے انکار تک کا معاملہ شامل ہے۔ فی الوقت یہ معاملہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس ہے ، لیکن ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کہ اس معاملے کی سماعت کس جج کے پاس ہوگی۔

یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ حمایت بیگ کا معاملہ تفتیشی ایجنسی کے لئے بہت پیچیدہ ہوچکا ہے کیونکہ عدالت میں ابتدائی سماعتوں کے دوران ہی دفاع کی جانب سے عدالت میں یہ واضح کردیا گیا تھا کہ حمایت بیگ کو غلط طریقے سے اس کیس میں پھنسایا گیا ہے اوراسے اس کیس میںغلط طریقے سے ملوث کرنے میں تفتیشی ایجنسیوں کے اہلکار کی دانستہ طور پر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مشہورتحقیقی صحافی آشیش کھیتان نے اپنے اسٹنگ آپریشن کے ذریعے بھی یہ بات واضح کی تھی کہ حمایت بیگ بے قصور ہے اور تفتیشی ایجنسیوں نے اسے غلط طریقے سے گرفتار کیا ہے ۔ آشیش کھیتان نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر بھی عدالت میں درخواست داخل کی ہے ، جس کی پیروی ایڈووکیٹ مہر دیسائی کررہے ہیں۔ نیز یہ کہ این آئی اے نے بھی اپنی تفتیش میں حمایت بیگ کو کلین چٹ دے چکی ہے۔

عدالت میں حمایت بیگ کے مقدمے کے التواء اور جیل ٹرانسفر کے معاملے میں دفاع کا کہنا ہے کہ ہم نے عدالت کے روبرو اس معاملے کی سنگینی کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ہمیں امید ہے کہ عدالت اس معاملے میں جلد ازجلد اپنا فیصلہ دے گی۔ اس کے بعد ہم عدالت سے اس مقدمے کی باضابطہ سماعت کی درخواست کریں گے۔ حمایت بیگ کونچلی عدالت کی جانب سے پھانسی اورعمر قید کی جو سزا سنائی گئی ہے اس پر اے ٹی ایس کی جانب سے عدالت میں جلد از جلد پھانسی دئے جانے کا کنفرمیشن دیا جاچکا ہے۔ 

Блогът Click here очаквайте скоро..

Full premium Here download theme for CMS

Bookmaker Bet365.gr The best odds.