پروفیسر ولی الحق انصاری نے عرفی کو ہندوستان میں کما حقہ سمجھا سمجھا:ڈاکٹر احسن الظفر

Posted in National

(ضیاء اللہ صدیقی ندویؔ)

لکھنؤ، 10 فروری.

(پی ایس آئی)

لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ فارسی کے زیراہتمام پروفیسر ولی الحق انصاری کی یاد میں ’’عرفی شیرازی ، حیات و خدمات اور عہد ‘‘ کے عنوان سے مالویہ ہال میں ایک دوروزہ عالمی سیمینار کا انعقاد کیاگیا۔ افتتاحی نشست کا آغاز بارہ بج کر تیس منٹ پر ہوا ۔

تلاوت قر آن محمد خبیب ریسر چ اسکالر شعبہ فارسی نے کی۔ اسٹیج پر تشریف فرما مہمانان کرام کو گلدستہ پیش کئے گئے ۔ بعد ازاں مہمانان گرامی کی جانب سے شمع روشن کر کے باقاعدہ سیمینار کا آغاز کیاگیا۔ سیمینار کے ڈائرکٹر پروفیسر عمر کمال الدین نے استقبالیہ پیش کر تے ہو ئے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ اور عرفی شیرازی پر ہونے والے سیمینار کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ ایران سے تشریف لائے ایران کلچرل کائونسلر علی فولادی نے اپنے خطاب میں عرفی شیرازی کے حیات وخدمات پر روشنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ ایران کے بہت سے شعراء نے ہندوستان میں فارسی زبان کو عروج بخشا ۔ اور ایک دور وہ بھی آیا جب ہندوستان اور ایران ایک صحن کے دو گھر بن گئے تھے ۔ تیموری دور کے بادشاہوں کے ذرہ نوازیوں کرم فر مائیوں کی بدولت ایران کے بہت سے شعراء نے ہندوستان کو اپنا مقصود اصلی بنایا ۔ انہیں میں عرفی شیرازی بھی ہیں۔ جنہوںنے ہندوستان آکر اپنی شاعری کے ذریعہ اپنے لئے ایک الگ جہاں بنایا ۔ پدم شری ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر آصفہ زمانی نے بھی اپنا مقالہ پیش کرتے ہو ئے عرفی شیرازی کی شاعری کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ولی الحق انصاری کی تابناک زندگی پر انہوںنے جامع انداز میں تبصرہ کیا ۔ ڈاکٹر احسن الظفر نے ولی الحق کی عرفی شناشی پر بڑی معتبر گفتگوکی ۔ انہوںنے کہا کہ عرفی اور ولی کو الگ نہیں کیاجاسکتا ۔ ولی الحق انصاری نے عرفی کے کلیات کو جمع کیا۔ اور ہندوستان میں عرفی کی شاعرانہ عظمت کو تسلیم کو کر وایا۔ انہوںنے مزید کہا کہ اردو اورفارسی دونوں زبان کی شاعری میں غالب اور اقبال کے بعد ولی الحق انصاری کا ہی شمار ہو تاہے ۔ انہوںنے مختلف جہات پر مثلاً تنقید ، تحقیق ، تد وین ، وغیرہ میں نمایاں کر دار اداکیا۔ ڈاکٹر اخترحسین استاذ جواہر لال نہرو یونیورسٹی نے عرفی اور ولی الحق انصاری کی شعری خصوصیت پر مختصر اور بلیغ روشنی ڈالی ۔ انہوںنے مزید کہا کہ عرفی کو ایران میں وہ اہمیت نہیں ملی جو ہندوستان میں ملی ۔ اہل ہند نے کماحقہ ان کی قدر کی۔ اس موقع پر مو جودیونیورسٹی کے وائس چانسلر ایس بی نمسے نے سیمینار میں شرکت کر نے والے مہمانان اور حاضرین کا شکر یہ اداکیا۔ سیدارشد القادری نے اپنے بہترین انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیتے ہو ئے اس پروگرام کو تاریخی بنایا۔ پہلی نشست میں پروفیسر عبدالقادر جعفری ، پروفیسر علیم اشرف ، ڈاکٹر محمودعالم ، ڈاکٹر ناہید مرشدلو،ڈاکٹر حمیرہ قادری نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ابھے کمار سنگھ ، شعبہ اردو کے صدر ڈاکٹر عباس رضا نیر ، پروفیسر خان محمد عاطف ، ڈاکٹر عارف ایوبی ،غلام نبی احمد ، صحافی ضیاء اللہ صدیقی ندویؔ،ڈاکٹر مشیر احمد صدیقی ، ڈاکٹر ایاز احمد ، ڈاکٹر قمر اقبال ، ڈاکٹر عرفات ظفر، ڈاکٹر تقی علی عابدی ، ڈاکٹر ارشد علی جعفری ، ڈاکٹر ایس محمد میاں زیدی ، ڈاکٹر ایس احمدمیاں ، ڈاکٹر منت اللہ صدیقی ، مسٹر فروز بخش افروز ، مسٹرناظر حسین ، مسٹر خبیب احمد صدیقی ، آصف جیلانی ندوی ، سیف اللہ فہمی ندوی ،قمر الزماں ندوی ، عرشی بانو، شبینہ کوثر ، سمیت کثیرتعداد میں لوگ مو جود تھے۔

 

Блогът Click here очаквайте скоро..

Full premium Here download theme for CMS

Bookmaker Bet365.gr The best odds.