شعبہ فارسی لکھنؤ یونیورسٹی کے دو روزہ عالمی سیمینار کا اختتام

Posted in National

(ضیاء اللہ صدیقی ندویؔ )

لکھنؤ، 11 فروری.

(پی ایس آئی)

 زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے ، فارسی افق کے درخشندہ ستارہ غروب ہوئے کچھ سال ہی گزرے ہوں گے۔ کہ ان کے سعادت مندشاگردوںنے اپنے استاد کی یاد کا چراغ روشن کیا۔

 اور ایک بین الاقوامی سیمینار بیاد استاد پروفیسر ولی الحق انصاری کااہتمام بعنوان احوال آثار عصر عرفی شیرازی شعبہ فارسی لکھنؤ یونیورسٹی کی جانب سے اے پی سین ہال لکھنؤ یونیورسٹی میں منعقد کیا۔یہ سیمینار چار سیشن میں صبح ساڑھے نوسے شروع ہو کر ساڑھے پانچ بجے تک چلا ۔ اس موقع پر مقامی اور بیرونی ماہرین عرفی نے گراں قدر مقالے پیش کئے ۔ اور شعبہ سے وابستہ ریسرچ اسکالر نے بھی اظہارخیال کیا۔ سیشن کے دوسرے مر حلے کی صدارت ڈاکٹر سید احسن الظفر اور ڈاکٹر حمیرہ قادری نے کی۔ اس موقع پرچھ مقاملے پیش کئے گئے ۔ جن میں ڈاکٹر مندانا مانگیلی نے عرفی کی شاعری میں لبر نزم ، ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکرنے ڈھاکہ کے مرکزی کتب خانہ میں عرفی شیرازی کے مخطوطات کا فارسی میں تعارف کرایا۔ ڈاکٹر محمد عطا ء اللہ نے عرفی شیرازی اور نظامی گنجوی کی مثنو یاں کا موازنہ پیش کیا۔ ڈاکٹر نکہت فاطمہ نے عرفی شیرازی اور عبدالرحیم خان خانہ عنوان سے دلچسپ مقالہ پڑھا۔ شفق مطلوب نے مر زا غالب کی شاعری میں عرفی کے اثرات تلاش کئے ۔ اور ڈاکٹر عائشہ ذبیحنیہ عمرا ن نے عرفی شیرازی کی شاعری میں طبی پہلوئوں کی تلاش کی۔ تیسرامرحلہ ڈاکٹر سیداحسن الظفرکی صدارت سے شروع ہوا ۔ جس میں سکینہ خان نے سترہویںصدی کے معروف شاعر عرفی شیزاری کا تعارف کرایا۔ اور ڈاکٹر شبیب انور علوی نے عرفی شیرازی کی شاعری میں جنت کے خوشنما پہلوئوں کو اجاگرکیا۔ مسٹرکاظم نے اقبال کی شاعری میں عرفی شیرازی کے اثرات اور سعودیہ جعفری نے قصائدعرفی پر ایک نظر اور مسٹر رمضان نے مولاناابوالکلام آزاد کی غبار خاطرمیں عرفی کی شاعری کا استقبال ، مسٹر خبیب احمد نے عرفی کے نعتیہ قصائد پر سیرحاصل گفتگوکی ۔ سیمینار کا چوتھا مرحلہ دوپہر ڈھائی بجے سے شرو ع ہو کرساڑھے پانچ بجے اختتام پذیرہوا ۔اس میں ڈاکٹر ایس مظاہر علی رضوی اور ڈاکٹر سید احسن الظفر سیشن کے چیئرمین رہے ۔ اس موقع پر بھی چار سے مقالہ پیش کئے گئے ۔ اس موقع پر پیش کئے گئے مقالات پراطہر کاظمی نے تبصرہ کرتے ہو ئے مقالہ نگاروں کو ان کے عمدہ مقالات پر مبارکباد پیش کی ۔اورکہا کہ عرفی ایک تحریک کا مر کز تھے ۔ ان کے یہاں دل کے ساتھ دماغ کی بے نذیر سلطنت قائم تھی ۔ جس نے پوری دنیا کے فارسی ادب کو متائثر کیاتھااور دوسری زبانوں کے شعراء وادباء نے بھی عرفی کے خیالات سے کسب فیض کیاتھا۔ آخرمیں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر شعبہ اردو کے صدر ڈاکٹر عباس رضا نیرجلال پوری ، ڈاکٹر عمر کمال الدین ، ڈاکٹر ارشد جعفری ،ضیاء اللہ صدیقی ندویؔ، ڈاکٹر اسرار الحق قریشی ، کے علاوہ شعبہ اردو و فارسی کے ریسر چ اسکالر و طلباء کی کثیر تعداد مو جود تھی ۔ 

Блогът Click here очаквайте скоро..

Full premium Here download theme for CMS

Bookmaker Bet365.gr The best odds.