بھوپال انکاﺅنٹر: اقلےتوں کا خون کتنا سستا ہوگےا!

Posted in National

 جس حکومت کی اصل بنےاد ہی انسانی جانوں کے ستونوں پر قائم ہو وہاں امن و اما ن اور سکون کےسا؟جس حکومت کے زےر اثر فساد مےں پےٹ مےں موجود بچوں کو تک ترشول پر لہرا ےا جاتا ہو ،اس حکومت کا سب سے بڑا ذمہ دار شخص معافی تک مانگنے سے انکار کرتا ہو اس پارٹی سے ہمدردی و اےثار کی امےد کےسے رکھےں؟جس حکومت کے وزراء،کارندے دجال کے حامی اسرائےل سے ٹرےننگ لےتے ہوں ان سے انصا ف کی توقع رکھنا بے معنیٰ سا لگتا ہے۔سابقہ حکومتوں کی طرح انہےں بھی تو ووٹ بےنک کو مضبوط کرنا ہے۔بھوپال انکاﺅنٹر کو سچ ثابت کرنے کے لےے جس طرح کی دلائل پےش کی جارہی ہےں دراصل جان بوجھ کر حماقتی بےان سے زےادہ کچھ نہےں۔

 

عبدالوہاب حبےب

997 007 321 4

 

اتوار کو مدھےہ پردےش نے اےک تارخ رقم کی ،اےک سےاہ باب جس کی نظےرفرعونےت مےں بھی نہےں ملتی،آٹھ مسلم نوجوانوں کو ’انکاﺅنٹر ‘کا دعویٰ کرتے ہوئے موت کے گھاٹ ےا جاتا ہے۔آٹھ سےمی ارکان جو سالوں سے جےل مےں عدلےہ کے فےصلہ کا انتظار کر رہے تھے ،ان کے وکےل کے مطابق چند دنو ں مےں ان کی بے گناہی کا فےصلہ صادر ہونے کے صد فےصد امکانات تھے۔جنہےں ہندوستانی عدلےہ پر مکمل اعتماد تھا۔اچانک ان کا منصوبہ فرار ہونے کا منصوبہ بناتے ہےں حالانکہ ان سبھی پر کھنڈو اجےل سے بھاگنے کے الزام مےں ہی ملک کی سب سے محفوظ بھوپال جےل مےں بند کےا گےا تھا۔ےہاں تےن الگ الگ بےرکوں مےں مقےد افراد بقول مدھےہ پردےش وزےر داخلہ’ لکڑی کی چابی سے تالا کھولتے ہےں‘ ،کھانے کے برتن سے وہا ںموجودےادو نامی پولس ملازم کا قتل کرتے ہےں،کسی دوسرے قےدی کو اس کا زرہ برار بھی علم نہےں ہوتا،ہزاروں قےدےوں مےں سے صرف ےہ آٹھ مسلم نوجوان فرار ہوتے ہےں وہ بھی جےل کی تےس فٹ دےوار کمبل سے رسی بناکر،اس دوران جےل کا الارم نہےں بجتا،جےل مےں مقتول پولس ملازم ےادو کے علاوہ کسی کو اس کی خبر نہےںہوتی،پھر ےہ آٹھو ں نوجوان 8گھنٹوں مےں صرف 8-10کلو مےٹر کے فاصلہ پر موجو د گاﺅں مےں دکھائی دےتے ہےں اورسبھی کے جسموں مےں پولس کی گولےاں پےوست کردی جاتیہے۔ ےہ جےل سے مفرور آٹھ نوجوان مختلف سمتوں مےں بھاگنے کے بجائے انہےں کہےں سے پےسہ ملتا ہے ،اےک ساتھ اس چھوٹے سے گاﺅں مےں کہےں سے رات مےں دےسی کٹے،جنس پےنٹ،گھڑےاں اور اسپورٹ شےوز تک خرےدلےتے ہےں ۔خےر کہانی کافی طوےل ہے جس پر واوےلا بھی مچنا طئے ہے۔کےونکہ ہمارے ملک مےں انکاﺅنٹر س کی اےک طوےل فہرست موجود ہے جس مےںعقل و دانش کا راست کوئی لےنا دےنا نہےں ہوتا۔کےونکہ متضاد بےان دے کر ،وےڈےو کو عام کرکے عوام مےں راست پےغام پہچاےا جا رہا ہے کہ ہماری مرضی مےں جو چاہے کرےں گے ،اقلےتوں اور دبے کچلے عوام کو جےنے کا حق صرف دستور اور قانونی کتابوں مےں موجود ہے۔ ازےں قبل عشرت جہاں ،سہراب الدےن،پرجاپتی و دےگر کئی انکاﺅنٹر کے نام پر قتل کا الزام ہماری محافظ پولس پر لگ چکا ہے نےز جےل مےں مقےد قےدےوں کی ہلاکت کے معاملوں مےں قتےل صدےقی اور خالد مجاہد کا شمار ہے۔اس جدےد ترےن Latest انکاﺅنٹر سے کچھ اور واقعات کی ےاد ےں تازہ ہوجاتی ہےں جس مےں گجرات فسادات ،ہاشم پورہ مےں مسلمانوں کا قتل عام ،اتر پردےش کے ڈی اےس پی ضےاءالحق کا قتل او ر1982مےں ڈی اےس پی کے پی سنہہ کا قتل۔ان سبھی معاملوں کا جانچ کرلےں ہماری جان و مال کی محافظ ،امن و امان کو لاگو کرنے والے ،قانون کا بول بالا کرنے والے پولس ملازمےن کے ملوث ہونے کا سبق ملتا ہے۔بحر حال بھوپال انکاﺅنٹر سے اےک نئی بحث کا آغاز ہوتا ہے تو وہےں بحےثےت اےک سےکولر ہندوستانی مجھے اےک سبق بھی ملا کہ آئےن ہمےں اپنے مذہب پر عمل پےرا ہونے کی اجازت تو دےتا ہے لےکن حکومتےں نہےں،کانگرےس نے جتنی تعصب پرستی مسلمانوں کے ساتھ برتی وہ پوشےدہ نہےں۔پولس اےکشن ،بابری مسجد کا واقعہ،مسلم فسادات کی ےکطرفہ فہرست،سبھی شعبہ جات مےں مسلمانوں کی پسماندگی ،خواجہ ےونس معاملہ ،بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر،بم دھماکوں مےں مسلم نوجوانوں کی گرفتارےاں،انکے خاندان تباہ کرنے مےں کےاکانگرےس نے کم سےنہ زوری کی؟اب جب بھاجپا کی حکومت آئی تو واوےلہ کےسا؟ جس حکومت کی اصل بنےاد ہی انسانی جانوں کے ستونوں پر قائم ہو وہاں امن و اما ن اور سکون کےسا؟جس حکومت کے زےر اثر فساد مےں پےٹ مےں موجود بچوں کو تک ترشول پر لہرا ےا جاتا ہو ،اس حکومت کا سب سے بڑا ذمہ دار شخص معافی تک مانگنے سے انکار کرتا ہو اس پارٹی سے ہمدردی و اےثار کی امےد کےسے رکھےں؟جس حکومت کے وزراء،کارندے دجال کے حامی اسرائےل سے ٹرےننگ لےتے ہوں ان سے انصا ف کی توقع رکھنا بے معنیٰ سا لگتا ہے۔سابقہ حکومتوں کی طرح انہےں بھی تو ووٹ بےنک کو مضبوط کرنا ہے۔بھوپال انکاﺅنٹر کو سچ ثابت کرنے کے لےے جس طرح کی دلائل پےش کی جارہی ہےں دراصل جان بوجھ کر حماقتی بےان سے زےادہ کچھ نہےں۔انہےں پتہ ہے کہ ہم انتہائی مضحکہ خےز بےانات دے رہے ہےں لےکن اصل مقصد مسلم قوم کی تضحےک اور ذہنی گرفت بنانا ہے ۔اس حکومت کی نظر مےں ہماری کوئی حےثےت اور وقار نہےں۔جس طرح کانگرےس نے ووٹ حاصل کرنے کے باوجودمسلم قوم کی اےنٹ سے اےنٹ بجادی ہم بھی ان ہی کی راہ پر چلےں گے۔وہ پس پردہ تھے ہم عےاں!تاکہ ہمارے بھی ووٹ بےنک کو ہمارے ان ’وکاس‘کی خبر ہو۔مہنگائی ،جی ڈی پی مےں کمی،ٹرانسپورٹ کراےوں مےں اضافہ،غذائی اشےاءکے آسمان چھوتے دام،مہنگی تعلےم ،ہندوستان کی گھٹتا جی ڈی پی،بارڈر پر ہمارے جوانوں کی اموات،تعلےمی اقدار مےں گراوٹ جےسے ان گنت ”وکاس پرو“کے بعدگوشت پر پابندی کے نام پر اخلاق کا قتل،رانچی مےں بچے سمےت تاجر کو پھانسی،گﺅ رکشکوں کو کھلی ظلم و جبر کی کھلی چھوٹ،مسلم پرسنل لاءمےں مداخلت،رےزروےشن سے محرومی،سورےہ نمسکار،وندے ماترم ،ےوگا کو لازمی،مسلم تارےخ کو ختم کرنے علاقوں اور راستوں کے نام تبدےل ،کشمےر مےں شہرےوں کا قتل عام اور نماز جمعہ پر غےر محسو س طرےقہ سے پابندی اور پھر کارپورےٹ مےڈےا کے ذرےعہ عوام مےں سےنہ پھلائے من کی بات کرنے سے عوام کو گمراہ کرنا حکومت کا شےوہ بن گےا ہے۔مسلمان تلملائےں،سےکولر لےڈران بال نوچے ،اعزازات و اےوارڈس واپس کرےں،دھرنا دےں کچھ فرق نہےں پڑتا۔اتنی پست ہمتی کا شکار ہوں کہ ان کی نسلےں بھی اس سے ابھر نہ پائےں۔جمہوری طرز پر منتخب حکومت جمہورےت کے خاتمہ کو اپنا مشن بنائے تو اس مےں غلطی ووٹ نہ دےنے والوں کی ہی ہوں؟بحر حال بھوپال انکاﺅنٹر مےں 8مسلم نوجوانوں کے قتل عام کے علاوہ پولس ملازم ےادو کا بھی سفاکانہ قتل بھی شامل ہے جن کی آخری رسومات ادا کی جا چکی لےکن ’جمہورےت‘ کی نعش پر مسلسل خنجر چلائے جا رہے ہےں۔

Блогът Click here очаквайте скоро..

Full premium Here download theme for CMS

Bookmaker Bet365.gr The best odds.